خود رحمی افسردگی کا سبب ہے

ڈاکٹر عالیہ خان

زندگی کبھی یکساں نہیں رہتی کبھی خوشی کبھی غم یہ ہی زندگی ہے زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی ہمیں جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں جو انسان زندگی کے معنی سمجھ گیا وہ کامیاب ہو گیا لیکن نا سمجھ  زندگی کو اپنے لیے کانٹوں کی سیج بنالیتے ہیں یہ دنیا جنت نہیں ہے یہاں خلاف توقع بھی  ہو سکتا ہے اس دنیا میں ہر لمحہ زندگی کا عیش نہیں ملتا  اور جیسا انسان  سوچتا ہےجب اس کے ساتھ ایسا نہیں ہوتاتو اس صورت میں کوئی بھی معمولی سی بات اسےڈپریشن میں مبتلا کردیتی ہے۔اور افسردگی اور مایوسی کا سبب بنتی ہے اور وہ انسان اپنے آپ پر ترس کھانے لگتا ہے یہ ہی خود رحمی ہے ۔ ہم میں سے کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں زندگی میں زیادہ تنگی اور تکلیف دہ واقعات کا تجربہ حاصل کرتے ہیں ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا ہے یہ سزا تو برے لوگوں کو ملنی چاہیئے۔

زندگی میں بری چیزیں پیش آنے پرانسان اس کا مقابلہ کیسے کرتا ہے اس سے انسان کے کردار اور  اس کی زندگی کے معیار کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ اداسی کا شکار بھی ہوسکتا ہے صدمہ سے ساکت بھی ہوسکتا ہے یا پھر اس درد سے نئی زندگی جی اٹھتا ہے اور قدرت کے عطا کردہ  سب سے قیمتی تحفے  یعنی اپنی زندگی کو صبر و تحمل کے ذریعے بچائے رکھتا ہے۔

خود رحمی کسی بھی وجہ سے ہوسکتی ہے جب انسان یہ سوچ لے کہ ہمدردی کے بدلے اسے ہمدردی ضرور ملے گی یا کسی بھی کام کا صلہ ضرور ملنا چاہئے بعض اوقات کوئی قریبی دوست اس کے ساتھ غلط سلوک کرے یا اس کا رویہ اس کے ساتھ ٹھیک نہ ہو  تو بے اختیار وہ اپنے آپ پر ترس کھانے لگتا ہے اپنے آپ کو قابل رحم سمجھتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ خود اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کے دوست اور اس کے ارد گرد رہنے والے اس کے ساتھ بہت غلط کر رہے ہیں اور اس بات کو ہر وقت سوچ سوچ کر اپنا خون جلاتا ہے  اس طرح وہ خود رحمی کا شکار ہوکر ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ خود رحمی تباہ کن منفی جذبات کو پیدا کرتی ہے۔

دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں جس کو کبھی کسی نے تنقید کا نشانہ نہ بنا یا ہو بعض اوقات کسی کی فطری خامی کو بھی لوگ تنقید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جیسے وہ خامی یا کمی  ان کی اپنی کسی غلطی کا نتیجہ ہو  کچھ حساس لوگ اس تنقید کو  منفی پہلو بنا کر محفلوں سے دور بھاگنے لگتے ہیں اس طرح لوگوں سے تعلقات قطع کر لیتے ہیں اور خود کو اکیلا کر کے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کی قابل رحم ہستی تصور کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے نفسیاتی دباؤ انسانی جسم میں شدید خرابیوں کا باعث بنتے ہیں اس سے اعصاب پر پڑنے والا بوجھ جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور خون میں کولسٹرول کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے ذیابیطس جیسا موذی مرض پیدا ہوجاتا ہے نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے غصہ کی شدت پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے چہرے کے نقوش میں سختی پیدا ہوتی ہے۔

اپنے اوپر رحم کھانے اور اپنے آپ کو دنیا کا مظلوم ترین انسان سمجھنے کی بجائے اپنے اندر شکر گزاری کا احساس پیدا کرنا چاہیے اگر انسان یہ سمجھ لے کہ ہر ایک چیز ہر ایک کے پاس نہیں ہوتی اور جو اس کے پاس ہے بہت سے لوگ اس سے محروم ہونگے یہ سب زندگی کا حصہ ہے ہر حال میں شکر گزاری کا احساس پیدا کریں کبھی بھی کسی نعمت کی کمی پر تنقید کرنے والے یا سوال پوچھنے والے کے سامنے اپنی کمی یا دکھ کا اظہار نہ کریں بلکہ مثبت انداز میں جواب دے کر گفتگو کا موضوع بدل دیں اس طرح آپ خود رحمی کا شکار نہیں ہونگے ہر چیز کو کنٹرول میں لینے کی کوشش نہ کریں یہ بات بھی ذہنی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے کیوں کہ ایک ہی انسان سب کچھ صحیح نہیں کرسکتا آپ جو کچھ کر سکتے ہیں اپنی توجہ اس پر ہی مرکوز رکھیں ماضی میں آپ کے ساتھ کس نے کیا غلط کیا اس کو بھول جائیں اس کو سوچنا اور کڑھنا ایک تو وقت ضائع کرنے کا سبب ہوگا دوسرے اس طرح آپ خود رحمی کا شکار ہونے لگیں گے اپنے حال سے لطف اٹھائیں اور اپنے اچھے مستقبل کا منصوبہ بنائیں  اپنے لیے اٹھ کھڑے ہوں اپنے مقاصد کو سمجھیں اور اس کے لئے کام کریں خود رحمی میں مبتلا فرد کو اپنے آپ کا جائزہ لینا چاہئے کہ اس کے ذہن میں کیا کچھ ہو رہا ہے مسئلہ معلوم ہو جائے تو اس کا حل نکالنا آسان ہوتا ہے ۔ آپ اپنے آپ کو  زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لئے منتخب کر سکتے ہیں۔ آپ خود اپنی خوشیوں کے مالک ہیں۔ اگر سمجھیں تو یہ آپ کی ذاتی ذمہ داری ہے۔

Related posts

Leave a Comment