ہمدردی کا حقیقی احساس

ڈاکٹر عالیہ خان

زندگی میں پریشانیوں کا ساتھ ہمیشہ رہتا ہے یہ سچ ہے کہ پریشانیاں نہ ہوں تو زندگی زندگی نہ لگے پریشا نیوں سے گھبرا کر ہی انسان حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے ۔ ان پریشانیوں کو محسوس کرنا بھی ایک فطری عمل ہے ۔بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جو قدرت کی طرف سے ہوتے ہیں اور ان کا ٹالنا انسان کے بس کی بات نہیں رشتوں کا ٹوٹنا ، ناکامی ،بیماری،پیاروں کی جدائی ، معاشی تنگی یہ ایسے حالات ہیں جو انسان کی آنکھ میں آنسو اور دل میں درد پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں پریشانی خود اپنی ہو یا کسی دوسرے کی دونوں ہی صورتوں میں انسان مایوس وغمزدہ ہو جاتا ہے بعض افراد بہت زیادہ حساسیت کی وجہ سے اپنے ارد گرد ہونے والے پریشان کن  واقعات خواہ اس کا تعلق ان سے ہو یا نہ ہو اس سے اتنے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کہ اپنا سکون بھی برباد کرتے ہیں انکی روزمرہ کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں اور انھیں سخت اذیت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے وہ خود ان کا اپنا دکھ ہو اس کیفیت میں مسلسل رہنے کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔

دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنا اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرنا ایک بلند انسانی جذبہ اور اخلاقی فریضہ  ہےلیکن دوسروں کے غم کو جان کر ان پر کڑھنا اور خود اذیتی میں مبتلا ہونا  نادانی ہے کسی سے ہمدردی کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خود اپنے آپ کو کسی کے دکھوں کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے  اپنا ہی خون جلانا شروع کردے دوسروں پر اتنا زیادہ رحم کھانے سے بلڈ پریشر کا دباؤ اتنا ہی شدید ہوگا جتنا خود اپنی کسی تکلیف پر پریشان ہونے سے ہوتا ہے ۔انسان کو کسی  کی ہمدردی کا بوجھ بھی اتنا ہی اٹھانا چاہیئے جتنی اس میں ہمت ہو انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ کسی مسئلے کو اپنے اوپر مسلط کرے یا نہیں ۔

لوگ تو ہر معاملے میں اور ہر وقت ایک دوسرے سے مدد کے طلبگار رہتے ہی ہیں۔ اگر آپ پیشے کے طور پر ڈاکٹر،  ٹیچر، مینیجر، وکیل یا پھر انتظامیہ کا حصہ ہیں تو پھر ایک حد تک  آپ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ایک سماجی کارکن بھی فرض منصبی کے طور پر ایک حد تک دوسروں کے مسائل حل کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ مسئلے کی اصل نوعیت تک پہنچ کر ہی آپ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آپ کی پیشہ ورانہ یا بھر اخلاقی ذمہ داری کس حد تک ہے۔ یا کس حد تک آپ قربانی دے سکتے ہیں۔  قدرت کا نظام بڑا پیارا ہے مسئلے سے پہلے ہی اس کا حل دنیا میں بھیج دیا جاتا ہے مگر ہمارا  ہیجان، جلد بازی دوسروں کی بات کو نہ سمجھنا، صبر وتحمل سے عاری ہونا اور اللہ کی ذات پر یقین نہ رکھنا مسئلہ کو گھمبیر  اور نا قابل  اصلا ح بنا دیتا ہے۔  ایسے لوگوں سے بچنا بھی ضروری ہے جو خود تو راہ فرار اختیار کرتے ہیں اور اپنے مسائل کا بوجھ ہمدردوں کے سر پر ڈال دیتے ہیں۔

اگر یہ بات  سمجھ  لی جائے کہ  بعض اوقات تکالیف اللہ کی طرف سے بھی ہوتی ہیں وہ اللہ کی جانب سے  آزمائش بھی ہوتی ہیں اور  اللہ ہی ان مشکلات بھی ہے دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنا ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے مگر اسی حد تک کریں جہاں تک آپ کے اپنے احساس کی حد ہو دوسروں کے درد کو حد سے زیادہ خود پر سوار کرنا انسان کا ان نعمتوں کے وجود سے منکر ہونا ہے جو اللہ نے اس کو دی ہیں نہ انسان خود کسی حادثہ کو روک سکتا ہے اور نہ ہی بیماری کو اور نہ ہی کوئی شخص کسی کے درد کو اس طرح محسوس کرسکتا ہے جیسا وہ شخص خود محسوس کرے جس پر دکھ اور بیماری آئی  ہو کسی کے دکھ درد میں تسلی تو دی جا سکتی ہے لیکن اختیار سے باہر دکھ کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے اللہ نے ہر انسان کو حساس اور درد مند دل ضرور دیا ہے مگر انسان خود اس بات کا شعور و اختیار رکھتا ہے کہ کس بات کی کتنی حساسیت کو خود پر سوار کرنا ہے اللہ نے انسان کوجن بے شمار نعمتوں سے  نوازا ہے ان نعمتوں کی قدر نہ کرنا اور دکھوں کو ہی گلے سے لگا لینا کفران نعمت ہے ہر طرح سے دوسروں کا معاون ضرور بننا چاہیے مگر اپنی حد میں رہ کر اگر ہر رونے والے کو اپنا کندھا دینا شروع کردیں تو لوگ بے مقصد بھی  ضرور رلا ئیں گے اور دوسروں کی اذیت کا سوچ کر مسلسل کڑھنے سے صحت خراب ہوکر خود بھی ڈپریشن کا شکار ہونگے اور اس  طرح  کسی شخص کی پریشانی کو ختم کرنے کی بجائے خود اپنی  پریشانی بڑھانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment