وقت کا مصرف کیا ہے

ڈاکٹر عالیہ خان

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا نہ ہی اس کو روکنے کا کسی کو اختیار ہے وقت کو تو جیسے  پر لگے ہوتے ہیں انتہائی تیزرفتاری سے اڑتا چلا جا رہا ہے ہمیں وقت کے ساتھ چلنے کے لیے اپنے  کاموں میں تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے اپنے کاموں میں ہر عقلمند شخص مصروف ہے ان کے پاس فرصت کے چند لمحات نہیں لیکن دوسری طرف کچھ نادان  لوگ بھی ہیں جن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں وہ ہمیشہ فارغ ہی رہتے ہیں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کام تو کرتے ہیں لیکن بچے ہوئے وقت کو ضائع کرتے ہیں۔

دنیا کا کوئی نظام فکر ایسا نہیں ہے جس میں وقت کو انسان کی سب سے بڑی دولت قرار دے کر اس کی اہمیت پر زور نہ دیا گیا ہو  انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اور جو قومیں وقت کی قدر جان کر اسے استعمال کرتی ہیں وہی دنیا میں ترقی کی منزلیں طے کرتی ہیں ۔

اپنے وقت کو کارآمد ہم خود بنا سکتے ہیں اس کے لیے ہمیں وقت کی اہمیت کا اندازہ  لگانا ہوگا کیوں کہ جب انسان کسی چیز کی قدرو قیمت کو جان لیتا ہے تو اس چیز  کا ہاتھ سے نکل جانا تکلیف دہ ہوتا ہے کہ عام طور سے لوگ اچھی نوکری کے انتظار میں کئی کئی سال ڈگری لیے فارغ بیٹھے رہتے ہیں اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں  اس کے بجائے  اگر وہ اپنے وقت کا درست استعمال کریں اور اپنے شعبے کے ساتھ کسی بھی طرح منسلک رہیں تو وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے اور جب بھی ان کو اچھی ملازمت کا موقع ملے گا تو ان کے پاس مطلوبہ مہارت اور تجربہ پہلے سے موجود ہو گا۔

 لوگ اپنا وقت تو ضائع کرتے ہی ہیں لیکن وہ دوسروں کا بھی وقت ضائع کرتے اکثر  فضول باتوں میں اپنا اور دوسرے کا وقت برباد کیا جاتا ہے اگر کسی کے ہاں کوئی تقریب منعقد ہوجائے تو پورا دن اس میں  ضائع کردیتے ہیں وقت ضائع کرنے کے مظاہرے تو زندگی کے ہر شعبے میں کیے جا تے ہیں یہ ہی منٹ گھنٹہ اور دن جو غفلت اور بے کاری میں گزرجاتا ہے اگر انسان حساب کرے تو مجموعی طور پر اپنی زندگی کے کئی سال ضائع کردیتا ہے اس لیے کہتے ہیں کہ وقت کو کھونا عمر کو کم کرتا ہے وقت ضائع کرنے والا شخص اعصابی دباؤ اور نقصان کے احساس کی باعث طرح کے جسمانی اور روحانی امراض میں مبتلا ہو جا تا ہے معاشرے میں برے کام اور جرائم وہی لوگ کرتے ہیں جو بےکار  رہتے ہیں کیوں کہ خالی دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے جب کوئی کام نہیں ہوگا تو دماغ میں غلط خیالات ہی آئیں گے  بالکل اس طرح جیسے خالی گڑھوں میں کوڑا کرکٹ آ کر جمع ہوجاتا ہے۔اسی طرح خالی ذہن بھی وقت کے ضیاع کے دوران گندے خیالات اکھٹا کر لیتا ہےاور انسان کو شیطانی کاموں کے لیے اکساتا ہے۔اس لئے اپنے آپ کو ہر وقت مصروف رکھنا ضروری ہے اگر فارغ رہے تو لوگ بھی ایسے ہی ملیں گے جو فارغ رہتے ہیں اور صرف اپنا وقت گزارنے کے لیے ملتے ہیں ٹائم پاس نہ کریں بلکہ اپنے وقت کو مفید بنائیں اگر دوستوں کے ساتھ بیٹھنا بھی ہو تو اس وقت سے کچھ سیکھیں اس سے فائدہ اٹھائیں ہر جگہ کچھ سیکھیں اور ہر کسی سے سیکھیں اس طرح آہستہ آہستہ آپ کے اندر قابلیت بڑھے گی ۔ یاد رکھیں مصروفیت اورفراغت کے درمیان ایک توازن رکھنا بھی ضروری ہے اگربہت زیادہ کام کے بعد فارغ ہیں تو اس وقت آرام بھی کرلیا جائے کیوں کہ اگر دماغ پر ایک حد سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے تو وہ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور  پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ بالکل کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ہے ہر روز رات سوتے وقت سوچیں کہ آج کیا کام کیا ہے کیا نیا سیکھا ہے اس طرح آپ روز بہتر سے بہتر ہوتے جائیں گے اور کامیابی کے نئے دروازے خود بخود آپ کے لیے کھلتے ہی جائیں گے ۔

جو لوگ اپنے وقت کا استعمال منافع بخش کاموں میں کرتے ہیں وہ اس وقت کو دولت میں بدل لیتے ہیں۔ جو لوگ اپنے وقت کی سرمایہ کاری دوسرے لوگوں کی مدد میں کرتے ہیں وہ بہتر تعلقات کا صلہ پاتے ہیں۔ جو لوگ اپنے کاموں کو مقررہ اوقات میں تکمیل تک پہنچاتے ہیں وہ وقت کی آزادی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔  جو لوگ اپنے وقت کو انسانوں کی بھلائی اور معاشرے کی تعمیر  میں استعمال کرتے ہیں  ان کا نام  وقت ہمیشہ ذندہ رکھتا  ہے۔اگر آپ  دولت، محبت، آزادی  یا  اورکچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اپنا وقت کیسے گزارتے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment